پاکستان سری لنکا سیریز فکسڈ تھی، بڑے انکشاف کے بعد تحقیقات کا آغاز

کرکٹ میں کئی میچ فکسرزاوردیگر کرپٹ آفیشلز کے خلاف بڑی بڑی سزائیں ہوجانے کے بعد بدقسمتی سے کرپشن اور فکسنگ کی لعنت سے پاک نہیں ہوسکی ہے۔ جس میں آئے دن کوئی نہ کوئی بڑی کرپشن کی نئی داستان سننے کو ملتی ہے۔

اب ایک ایسی ہی داستاں کرکٹ سری لنکا سے متعلق سامنے آئی ہے جہاں کرکٹ میں کرپشن عام ہوچکی ہے لیکن اس بار ان الزامات میں پاکستان ٹیم بھی زیرعتاب آگئی ہے۔ کیونکہ کرپشن کا یہ تازہ قصہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان گزشتہ جولائی میں کھیلی جانے والی دو ٹیسٹ میچز کی سیریز سے متعلق ہے۔

پاکستان کے خلاف سیریز سری لنکا کے معاشی بحران کے عروج کے دوران گال میں کھیلی گئی تھی، جس میں سری لنکا کوکئی مہینوں سے جاری سیاسی بدامنی، بجلی کی کٹوتیوں اور ملک بھر میں ایندھن کی قلت کا سامنا تھا۔

یہ سیریز آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ کا حصہ تھی اور 1-1سے برابر ہوئی تھی۔سیریزکے پہلے میچ میں پاکستان نے چاروکٹوں سے کامیابی حاصل کرلی تھی جس سے سری لنکا آئی سی سی ٹیسٹ چیمپئن شپ میں اپنی تیسری پوزیشن گنوابیٹھا تھا لیکن بعدازاں دوسرے ٹیسٹ میچ میں سری لنکا نے 246رنزکے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرکے سب کو حیران کردیاتھا۔

سیریزکے کچھ ماہ گزرجانے کے بعد کسی عام آدمی یا کرکٹ شائق نے نہیں بلکہ سری لنکن پارلیمنٹ میں  حزب اختلاف کے قانون ساز نلین بندارا نے الزام لگایاتھا کہ سری لنکن ٹیم نے یہ سیریز فکس کی تھی ۔

گوکہ نلین بندارا کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سری لنکن ٹیم نے پہلا ٹیسٹ جان بوجھ کر ہاراتھا یا پھر دوسرا ٹیسٹ پاکستان ٹیم جان بوجھ کر ہاری تھی لیکن انہوں نے اپنے الزام سے ایک بار دُنیائے کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا۔

سری لنکن کرکٹ بورڈ کو ان الزامات اور اس کے نتیجے میں پہنچنے والے برے اثرات کا بخوبی اندازہ ہے جس نے سری لنکن کرکٹ کی ساکھ کو بری طرح مجروح کیاہے۔

جس کے سبب کرکٹ سری لنکا نے ازخود آئی سی سی سے مطالبہ کردیا ہے کہ وہ اس معاملے کی تحقیقات کرائے تاکہ حقیقت سامنے آسکے۔ سری لنکا کے کرکٹ بورڈ نےانٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اینٹی کرپشن یونٹ کے سربراہ الیکس مارشل سے کہا کہ وہ سری لنکا کا دورہ کریں اور اس الزام کی تحقیقات کریں۔

سری لنکاکرکٹ بورڈ کی درخواست کے بعد آئی سی سی کااینٹی کرپشن یونٹ اس حوالے سے حرکت میں آچکاہے جوکہ پاکستانی شائقین کرکٹ کے دلوں کی دھڑکنیں تیز ہونے کا بھی سبب ہے کیونکہ کہیں نہ کہیں یہ خدشہ ضرور پایا جاتاہے کہ اگر اس معاملے میں کسی پاکستانی کھلاڑی کا نام سامنے آیا تو ملکی کرکٹ ایک بارپھر نئے ہیجان سے دوچار ہوسکتی ہے۔

کیا پاکستانی کھلاڑی زیرعتاب آئیں گے؟

سری لنکا میں موجود ذرائع کا دعویٰ ہے کہ میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کا شُبہ صرف سری لنکن کھلاڑیوں پر ہے، کسی پاکستانی کرکٹرزکی مشکوک حرکت سامنے نہیں آئی ہے۔

کرکٹ سے متعلق مزید اہم رپورٹ ہمارا یوٹیوب چینل ’’ورلڈاسپورٹس‘‘ ملاحظہ کریں

Check Also

انگلینڈ کیخلاف پاکستان اسکواڈکا اعلان،میرٹ یا خانہ پُری؟

پاکستان کرکٹ بورڈنے کے چیف سلیکٹر محمد وسیم نے آج انگلینڈ کیخلاف یکم دسمبر سے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔