ہفتہ , 18 ستمبر 2021

آج زمبابوے کیخلاف پاکستان کی ناکامی کا ذمہ دار کون؟

پاکستان کرکٹ ٹیم کا مڈل آرڈرحسب ِ توقع آج ایکبارپھر ناکام ہوا اور پاکستان ٹیم کی منیجمنٹ بھی اپنی روش نہ بدلی جو ناکام کی جگہ پلیئرلانے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے حیدرعلی کی جگہ آصف علی کو لے آئی اور کراچی کی تاریخ کا بہترین فنشرقراردیاجانے والا دانش عزیز بھی دانش سے خالی دکھائی دیا۔ لگتا ہے کہ محمد حفیظ کو تو قدرت 2020ء میں اچھی کارکردگی پرنخرہ دکھانے کی سزا دے رہی ہے۔

یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ ٹی وی کیمروں کے سامنے اور اپنے یوٹیوب چینل پر سلیکٹرزکے غلط فیصلوں پر بھاشن جھاڑنے والے موجودہ چیف سلیکٹر محمد وسیم کیاموجودہ پلیئرزکی سلیکشن کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دیں گے۔

ذمہ داری کون قبول کرے گا؟

محمد وسیم توحسب توقع اس بدترین ٹیم سلیکشن کی ذمہ داری نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی اورایساکرے گا۔نہ کپتان بابراعظم اور نہ ہی ہیڈکوچ مصباح الحق ،نہ ہی بیٹنگ کوچ یونس خان اخلاقی جرأت کا مظاہرہ کرے گا لیکن بہرحال! ان لوگوں کے غلط فیصلوں نے آج زمبابوے کو پاکستان کے خلاف تاریخ میں پہلی بار ٹی ٹوئنٹی فتح دلادی جو اس سے قبل کھیلے گئے پندرہ کے پندرہ میچز میں پاکستان کے ہاتھوں شکست سے دوچارہوئی تھی۔یوں اب پاکستان محض بھارت اور بنگلہ دیش کے خلاف زمبابوین سرزمین پر ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچ جیتنے والی دُنیا کی تیسری ٹیم بن گئی ہے جس نے پاکستان کے خلاف لگاتار پندرہ میچز ہارنے کے بعد پہلی بار اُسے شکست کامزہ چکھایا۔

زمبابوے نے آج نہ صرف پاکستان کے خلاف تاریخی فتح حاصل کی بلکہ کمترین ٹی ٹوئنٹی اسکورکا دفاع کرنے کا نیا ریکارڈبھی قائم کردیا۔

ماہرین سمجھے جانے والے مبصر بابراعظم کے اسٹرائک ریٹ پر تنقید ایسے کرتے ہیں جیسے ہمارے بیک اپ میں ابراہام ڈی ویلیئرز، گلن میکسویل جیسے بیٹسمین بیٹھے ہوں۔دووکٹیں گرجائیں تو ہماری بیٹنگ لائن کی ٹانگیں کانپ اُٹھتی ہیں۔

محمد حفیظ کہنے کو تو کہتے ہیں کہ رمیزراجہ سے زیادہ اُن کابیٹاکرکٹ کی سمجھ بوجھ رکھتا ہے تو بھیا! ذرابیٹے ہی سے تھوڑی سمجھ بوجھ لے لیں اور2021ء میں کچھ رنزبنالیں۔ قدرت نے ڈیڑھ دہائی پر مشتمل کیرئیرمیں اگر پہلی بار 2020ء کا کیلنڈرایئرآپ کیلئے یادگاربنایاتھا تو آپ نے کالر کھڑے کرلئے۔ گرین شرٹس سینے پر سجانے کے بجائے ٹی ٹین لیگ کے درہم آپ کو پیارے ہوگئے۔تو قدرت اس کا حساب تو لے گی ناں۔

میں نے پہلے بھی بارہاکہاتھا کہ فخرزمان وکٹ پر ٹائم لیتے ہیںاورٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں چونکہ جلد بڑے اسٹروکس کھیلنا پڑتے ہیں تو فخرزمان یہاں کامیاب نہیں ہوپائیں گے جنہوں نے 60رنزکی ایک عمدہ اننگز ضرور کھیلی مگر وہ پھر پرانی ڈگر پہ واپس آگئے ہیں اور لگاتار تین برس سے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کرکٹ میں اُن کی ناکامیوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا جہاں سے ٹوٹاتھا۔

ہمارے بیٹسمینوں سے رنزنہیں بن پارہے مگر ہم شرجیل خان کو اس لئے کھلانے کیلئے تیارنہیں چونکہ اُن کا وزن زیادہ ہے۔حیدرعلی اور آصف علی نے توبہ کرادی سب کی مگر مجال ہے کہ ٹیم منیجمنٹ کوشرم آئے جس کی نادیدہ صلاحیت اُن کے ذہنوں سے نکل ہی نہیں پارہی۔

بہرحال! آج کی شکست پاکستان کے اُن سابق کھلاڑیوں اورکرائے کے کوٹ پہنچ کر ٹی وی اسکرینوں پر بیٹھنے والے نام نہاد تجزیہ کاروں کے منہ پہ طمانچہ ہے جوکہ دانش عزیز کو کراچی کی تاریخ کا بہترین میچ فنشر،اُسے نہ کھلانے کو کراچی کے ساتھ زیادتی قرار دیتے تھے۔سائوتھ افریقہ کے بعد زمبابوے کے بولرزکے خلاف بھی ناکامی کے بعد ظاہرہوگیا ہے کہ ڈومیسٹک میچز میں ایک دوپرفارمنسز سے کوئی کھلاڑی عظیم نہیں بن سکتا۔

Check Also

پاک- زمبابوے سیریز:رنز،سنچریوں اور چھکوں میں کون آگے رہا؟

پاکستان اور زمبابوے ون ڈے سیریزکا اختتام پاکستانی نقطہ نگاہ سے مایوس کن رہا جو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے